Select Language


خادم العلوم کا تفصیلی تعارف

مدرسہ خادم العلوم باغوں والی ایک دینی، اسلامی، تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے، جس کا قیام اکابرِ امت بالخصوص حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ، بانیٔ تبلیغ حضرت مولانا شاہ محمد الیاس صاحبؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ اورحضرت الحاج ڈپٹی عبدالرحیم صاحبؒ کے ہاتھوں ۱۳۵۱ھ مطابق ۱۹۳۲ء کو عمل میں آیا، جس نے روزِ اول سے لے کر آج تک ہزارہا تشنگانِ علوم کو سیراب کرکے ملک کے گوشے گوشے اور خطے خطے میں اپنے نام کو اجاگر کیا، جس نے دینِ اسلام کے تحفظ وبقا کے لیے چھائونی کا کام دیا، جس نے قوم کو راہِ ظلمت سے نکال کر صراطِ مستقیم پر گامزن کیا، جس نے باطل طاقتوں کو شکست دے کر دین کا پرچم لہرایا جو آج بھی برابر دینی واصلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہے، یہاں اترپردیش، آندھراپردیش، مہاراشٹر، بہار، بنگال وآسام مختلف صوبوں سے آئے ہوئے طلبا کا ایک جمِ غفیر ہے،جن کے خورد ونوش، رہائش وکتب وغیرہ کا انتظام منجانب مدرسہ ہے، آپ کا یہ ادارہ ’’خادم العلوم‘‘ مخلص بانیین اوردیگر اسلاف واکابر نیز حضرات اساتذہ اور ذمہ داران کی توجہات اور کوششوں سے علاقے میں انفرادی شان کا حامل ہے، ملک کی چیدہ شخصیات اور اہم ذمہ داروں نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ ’’تعلیمی وتربیتی لحاظ سے یہ مدرسہ اس علاقہ کا معیاری ادارہ ہے۔‘‘


خادم العلوم کا نصب العین

  • قرآن مجید، تفسیر، حدیث، فقہ،عقائد وکلام اور مفید فنونِ آلیہ کی تعلیم دینا اور مسلمانوں کو مکمل طور پر اسلامی معلومات بہم پہنچانا، رشد وہدایت اور تبلیغ کے ذریعے اسلام کی خدمت انجام دینا۔
  • طلبہ کو علوم شرعیہ واخلاقِ اسلامیہ سے آراستہ کرنا اور ان کی زندگی میں اسلامی روح پیدا کرکے مسلکِ اہل سنت والجماعت کا صحیح ترجمان بنانا۔
  • اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور دین کا تحفظ ودفاع بذریعہ تحریر وتقریرکرنا اور مسلمانوں میں تعلیم وتبلیغ کے ذریعے خیرالقرون اور سلف صالحین جیسے اخلاق واعمال اور جذبات پیدا کرنا۔
  • مضبوط ومستحکم دینی ومذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دورِ حاضر کے تقاضوں کے مدِنظر طلبہ کو علوم عصریہ سے ہمکنار کرنا۔

قیام و پس منظر

مدرسہ اسلامیہ عربیہ خادم العلوم باغوں والی وبجھیڑی کا قیام ۱۳۵۱ھ مطابق ۱۹۳۲ء ایسے وقت عمل میں آیا جب اس علاقے میں اصلاح وتعلیم کی تحریک زوروں پر تھی ایک طرف قوم کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا جارہا تھا تو دوسری طرف اس کو غیراسلامی رسومات سے پاک کرنے کی بھرپور سعی وکوشش کی جارہی تھی۔ دراصل یہ تعلیمی اور اصلاحی کوشش تحریک دارالعلوم دیوبند اور اکابرین دیوبند کی تعلیمی، تبلیغی اور اصلاحی جدوجہد کے ثمرات کا ایک حصہ تھی یہ وہ وقت تھا جب تحریک دارالعلوم دیوبند کے اثرات پورے ہندوستان میں پھیل چکے تھے، بڑے بڑے علما، صلحا اور مشائخ اس علاقہ میں موجود تھے جو مسلسل برطانوی ہندوستان میںاحیائے اسلام کے لیے ہمہ تن مصروف تھے، ہندوستان کا کوئی حصہ، کوئی علاقہ اور کوئی شہر ایسا نہ تھا جہاں اس تحریک کے اثرات نہ پہنچے ہوں کوئی قوم، کوئی برادری ایسی نہ تھی جو اس کے اثرات سے متاثر نہ ہوئی ہو، اکابر دیوبند کی مسلسل جدوجہد اور محنت نے ایک ایسی فضا پیدا کردی تھی کہ ہرقوم ہر برادری اپنی اصلاح اور تعلیم پر آمادہ نظر آتی تھی، انھیں اکابر اور بزرگان دین کے فیوض وبرکات سے بہت سے دینی ادارے وجود میں آئے جن سے کافی حد تک اصلاح بھی ہوئی اور تعلیمی خلا بھی پر ہوا، انھیں میں سے ایک آپ کا یہ ادارہ مدرسہ خادم العلوم باغوں والی بھی ہے۔


جائے وقوع

یہ ادارہ شہر مظفرنگر سے جانب شمال پانچ کیلومیٹر کی دوری اور مظفرنگر سے روڑکی جانے والی شارع عام (N.H 58 Road) سے جانب مشرق ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

Copyright © 2021 Khadimul-Uloom All rights reserved.