Select Language


خادم العلوم اکابر کی نظر میں!

۱۸۵۷ء کی جنگ میں شکست اور مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد جب انگریزوں نے اپنے سیاسی مصالح کے پیش نظر اسلامی علوم وفنون کی قدیم درسگاہوں کو یکسر ختم کردیا تھا، اس وقت نہ صرف اسلامی علوم وفنون اور اسلامی تہذیب کی بقا کے لیے بلکہ مسلمانوں کے دین وایمان کی حفاظت کے لیے ضرورت تھی کہ عظیم بنیادوں پر ایک عظیم درسگاہ قائم کی جائے جو ہندوستان کے مسلمانوں کو الحاد و بے دینی کے فتنے سے محفظ رکھ سکے، اس وقت اسلام کے تحفظ کی تمام ذمہ داری علمائے کرام پر تھی، خدا کا شکر ہے کہ علمائے کرام نے بروقت اپنا فریضہ انجام دینے میںکوئی کوتاہی نہیں کی۔ چناں چہ دارالعلوم دیوبند کے ذریعے تمام توقعات بدرجۂ اتم پوری ہوئیں۔

۱۸۵۷ء کے ہنگامۂ انقلاب میں شکست کے بعد مسلمانوں کی علمی اور تہذیبی فضا میں جو سناٹاچھاگیا تھا،اگر اس وقت دارالعلوم قائم ہوکر مشعل راہ نہ بنتا تو نہیں کہا جاسکتا کہ آج ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کیاہوتی؟

برصغیر میں جس قدر دینی مدارس اس وقت موجود ہیں وہ دارالعلوم ہی کا فیض ہیں۔ الحمدللہ! مدرسہ خادم العلوم بھی انہیں میں سے ایک ہے، جو گزشتہ تقریباً ایک صدی سے تعلیم دین، وعظ وتبلیغ، اصلاح ِ عقائد اور حفاظتِ دین کی عظیم الشان خدمات انجام دے رہا ہے۔ چناں چہ ملک وبیرون ملک یہاں کے فیض یافتگان مسلمانوں کی دینی رہنمائی اور درسی واصلاحی خدمات میں مصروف ہیں، اور اب تک تقریباً ۳۲۰۵۱؍(بتیس ہزار اکیاون) فضلا ملک وبیرون ِملک میں دینی وملی خدمات دے کر ادارہ کا نام روشن کررہے ہیں۔


ادارہ کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اکابر اور مشاہیر علما نے جواپنے وقیع تأثرات تحریر فرمائے ہیں ،اُن کے اقتباسات ہدیۂ ناظرین ہیں۔

  1. (۱) مدرسے کے طلبا پر نظر پڑی ماشاء اللہ کافی طلبا کو دیکھا جو مدرسے کے احاطے میں قیام پذیر ہیں تعلیم و تربیت اچھے نہج پر ہورہی ہے۔ ان کے اخلاق بھی طالبِ علمانہ ہیں۔حضرت مولانا فخرالحسن صاحبؒ(صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند)
  2. (۲) میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس مدرسے کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائیں اور اس کے کارکنوں اور معاونینِ کرام کو اپنے انعامات سے نوازیں۔حضرت مولانا معراج الحق صاحبؒ(صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند)
  3. (۳) الحمدللہ تعلیمی حالت بہت اچھی ہے امتحان لے کر بے حد مسرت ہوئی، اہلِ خیر حضرات مدرسے ک
  4. (۴) میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مدرسہ مذکورہ بحمد اللہ بہت سے ابتدائی مدارس کے اعتبار سے بہت اچھا کام کررہا ہے، امید ہے کہ مدرسہ مذکورہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے بہت زیادہ مفید ہوگا۔حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ( شیخ الادب دارالعلوم دیوبند)
  5. (۵) یہ ادارہ دین کی خدمت کررہا ہے، اسے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، میں ادارہ کی ہر قسم کی ترقی اور کامیابی کے لئے دعاء کرتا ہوں۔حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ( ندوۃ العلماء لکھنؤ)
  6. (۶) یہ مغربی اضلاع کا مستند اور معتبر ادارہ ہے مدرسہ دیکھ کر حیرت بھی اور بے پناہ مسرت بھی ہوئی کہ مدرسہ نے اس دوران تعلیمی، تربیتی اور انتظامی اعتبار سے شاندار ترقی کی ہے۔حضرت مولانا انظر شاہ کشمیریؒ(شیخ الحدیث دارالعلوم (وقف) دیوبند)
  7. (۷) دعا ہے کہ اس چمنِ علمی کی بہار میں بطفیلِ حبیبِ پاکؐ اضافہ فرمائیں اور جملہ مسلمانوں کو اس خیر میں شرکت واعانت پر اسکی دن دونی رات چوگنی خدمت کی توفیق عطا فرماکر داخل حسنات فرمائیں۔حضرت مولانا عبدالاحد صاحبؒ(استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند)حضرت مولانا ارشاد احمد صاحبؒ (مبلغ اعلی دارالعلوم دیوبند)
  8. (۸) مدرسہ خادم العلوم میں آج تیسری بار حاضری ہوئی ہے۔ الحمدللہ نمایاں ترقی پائی، یہاں کی تعلیمی خدمات بھی قابلِ تحسین ہے،اسٹاف میں اتحاد اور عملی جدوجہد قابلِ اطمینان ہے۔حضرت مولانا حکیم محمد زمان الحسینی رحمۃ اللہ علیہ، کلکتہ (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند)
  9. (۹) عرصۂ دراز کی خواہش آج پوری ہوئی، مدرسہ خادم العلوم میں حاضری کا شرف حاصل ہوا، بحمد اللہ یہاں ذی استعداد مخلص اور محنتی اساتذہ طلبہ کی تعلیم اور تعمیر کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ادارہ کی عمارات اور اس کا رکھ رکھائو بھی قلب و نظر کو متاثر کرتے ہیں۔ ادارہ میں پہنچ کر پرانی قدریں اور ماضی کی روایتیں یاد آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان اہم خصوصیات کو زندہ و تابندہ رکھے۔حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ(خانقاہ رحمانی ، مونگیر بہار)
  10. (۱۰) راقم الحروف اس مدرسہ کو جانتا ہے اور یہ مدرسہ اس اطراف کا اہم مدرسہ ہے۔حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب( صدر جمعیۃ علماء ہند)
  11. (۱۱) یہاں کی تعلیم وتربیت کا امتیازی نظام شہرۂ آفاق ہے جیسا سناتھا اُ س سے بہتر اور عمدہ پایا، طلبہ کا علمی ذوق، سلیقہ مندی، صفائی ستھرائی اور جدو جہد قابل ِ دید ولائق تقلید ہیں ، اللہ جل شانہٗ ادارہ کی نیک نامی میں اضافہ فرمائے۔ آمینمولانااکبر شریف صاحب، مفتی محمداسلم صاحب،مولانا ریاض احمد صاحب ودیگر رفقاء (بنگلورشہر)
  12. (۱۲) مدرسہ اسلامیہ عربیہ خادم العلوم باغوں والی ضلع مظفرنگر میں پہلی بار حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، اس مدرسہ کا نام ابتدائے طالب علمی سے کانوں میں پڑا ہوا تھا، آج حاضر ہوکر بہت مسرت ہوئی، اکابر کا لگایا ہوا یہ پودا آج ایک تناور درخت کی شکل میں اپنے برگ وبار تقسیم کررہا ہے اور علاقہ و دور دراز سے شائقین علم وتربیت حاضر ہوکر اس کی آغوش میں تعلیم وتربیت حاصل کررہے ہیں۔تقریب ختم بخاری شریف میں حاضری کے موقعہ پر تعلیمی سرگرمیوں سے براہ راست واقف ہونے کا موقعہ نہ مل سکا۔ لیکن اس کی شہرت ونیک نامی اہل علم و دانش کے درمیان مسلم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کا فیض اسی طرح جاری وساری رکھے،آمین ۔ حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب دامت برکاتہم (مہتمم دارالعلوم دیوبند)
  13. (۱۳) الحمدللہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ خادم العلوم باغوں والی ضلع مظفرنگر یوپی میںحاضری کا شرف حاصل ہوا، مہتمم مدرسہ جناب مولانا حامد حسن صاحب اوردیگر اساتذۂ کرام سے ملاقات اور تبادلۂ خیال ہوا۔ماشاء اللہ مدرسہ اپنی تعلیمی خدمات کے تعلق سے پہلے ہی سے مشہور ہے ، لیکن مجھے یہ جان کر زیادہ خوشی ہوئی کہ مدرسے میں بہتر تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی خاص اہتمام ہے اور اربابِ مدرسہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے کام میں ہمہ تن مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ مدرسہ ہذا کو مزید ترقیات سے نوازے اور اس کی تعلیمی ، دعوتی ، تربیتی اور تعمیری سرگرمیوں میں اضافہ فرمائے۔اصحاب ِخیر کو اس کی طرف متوجہ فرمائے، اور ہر طرح کے شرور وفتن سے اپنے حفظ وامان میں رکھے، آمین ۔حضرت مولانا قمر الزماں صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم(خلیفہ وداماد حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب الہ آبادی نور اللہ مرقدہ وخلیفہ ٔ مجاز حضرت مولانا محمداحمد صاحب پرتاپ گڑھی نوراللہ مرقدہ)

Copyright © 2021 Khadimul-Uloom All rights reserved.